بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || "نبیہ بری" نے جنوبی لبنان میں بفر لائن قیام کی صہیونی تجویز پر کہا: "ہم جنوبی لبنان میں زرد لکیر یا کسی دوسری لکیر کو تسلیم نہیں کرتے اور اگر قابضین رہنے پر اصرار کریں گے، تو ان کا مقابلہ کیا جائے گا۔
ہم اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے خلاف نہیں ہیں، بشرطیکہ بالواسطہ ہوں۔
لبنانی پارلیمان کے سربراہ نیبہ بری نے کہا:
صہیونی ریاست جنوبی لبنان میں "زرد لکیر" کے نام پر ایک بفر زون قائم کرنے پر اصرار کرکے قبضہ مستحکم کرنا چاہتی ہے لیکن حزب اللہ نے صہیونی عزائم کو عملی طور پر خاک میں ملا دیا ہے۔
لبنانی پارلیمان کے سربراہ نبیہ بری نے اخبار "الجمہوریہ" منگل کے روز اپنے خطاب میں کہا:
- بے گھر افراد جنوبی لبنان میں، اپنے علاقوں میں واپسی کو ملتوی کریں، کیونکہ اسرائیلی دشمن کو فریب اور خیانت کی عادت ہے۔
- یہاں نہ کوئی زرد لکیر ہے اور نہ ہی کوئی سرخ لکیر، نہ سبز لکیر اور نہ ہی کوئی دوسری لکیر، اور یہاں ایسی کوئی لکیر ہمارے لئے بالکل اہمیت نہیں رکھتی اور ہم یہاں کوئی بھی ایسی کوئی چیز تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
- اسرائیل کو ـ جو جنوبی لبنان میں داخل ہؤا ہے ـ اس علاقے سے پسپا ہونا چاہئے۔
- اگر اسرائیل اپنی فرضی زرد لکیروں یا اڈوں کے ذریعے قبضہ جاری رکھنا چاہے، تو اس کو مقاومت کی فورسز کا سامنا کرنا پڑے گا۔
- یہ سرزمین لبنان کی سرزمین ہے، اور ہرگز قابل قبول نہیں ہے کہ اس میں سے ایک میٹر بھی، کم ہوجائے۔
- ہم نے جنگ کا آغاز نہیں کیا اور ہم نے بیہودہ مقابلہ نہیں کیا۔
- اسرائیلیوں نے قبضے کے لئے جارحیت کی اور ہمیں اپنی سرزمین کی آزادی اور اپنی سالمیت کے تحفظ کے لئے جارح دشمن کا مقابلہ کرنے پر مجبور کیا۔
- ہمارے لئے یہاں کوئی بھی چیز نہیں بدلی ہے، ہم اپنے موقف پر مضبوطی سے کھڑے ہیں،یہاں تک کہ قبضہ ختم ہوجائے اور دشمن کو ہماری سرزمین سے نکال باہر کیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ